سوال نمبر 1: مسجد کسے کہتے ہیں؟
جواب :ہر وہ مقام جو نمازپڑھنے کے لیے مخصوص کر لیا جائے اور وہاں باجماعت یعنی اذان واقامت سے نماز ہوتی ہو مسجد کہلاتا ہے۔ مسجد کے لیے عمارت ضروری نہیں یعنی خالی زمین اگر کوئی شخص مسجد کر دے تو وہ مسجد ہے او ر جو جگہ مسجد ہوگئی وہ قیامت تک مسجد ہے۔
سوال نمبر 2: مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت کیاہے؟
جواب :حدیث شریف میں آیا ہے کہ مرد کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ گھر میں اور بازار میں پڑھنے سے پچیس درجے زائد ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ صبح و شام مسجد کو جانا از قسم جہاد فی سبیل اللہ ہے؛ اور ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کے لیے نکلا تو جو قدم چلتا ہے اس سے درجہ بلند ہوتا ہے اور گناہ مٹتا ہے اور قرآن کریم سے بھی یہ مضمون ثابت ہے کہ جو قدم نمازی مسجد کی طرف چلنے میں رکھتا ہے اس پر اجرو ثواب لکھا جاتا ہے۔
سوال نمبر 3: مسجد کے آداب کیا ہیں؟
جواب :مسجد میں ان آداب کا لحاظ رکھنا چاہیے:
(۱)جب مسجد میں داخل ہو تو سلام کر و بشرطیکہ جو لوگ وہاں موجود ہیں ، وہ ذکر و ددرس میں مشغول نہ ہوں (۲)وقت مکرو ہ نہ ہو، تو دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرو (۳)ذکر کے سو آواز بلند نہ کرو (۴)دنیا کی کوئی بات مسجد میں نہ کرو، مسجد میں کلام کرنا نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے، جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے (۵)لوگوں کی گردنیں نہ پھلا نگو (۶) جگہ کے متعلق کسی سے جھگڑا نہ کرو (۷) اس طرح نہ بیٹھو کہ دوسروں کے لیے جگہ میں تنگی ہو (۸)نمازی کے آگے سے نہ گزرو(۹)انگلیاں مت چٹکاؤ (۱۰)ذکر الٰہی کی کثرت کرو (۱۱)وضو کرنے کے بعد پانی کی ایک چھینٹ بھی فرش پر نہ گرنے دو (۱۲)کھڑے ہو کر تکبیر نہ سنو کہ مکروہ ہے بلکہ اقامت کہنے والا جب حی علی الصلوٰۃ کہے اس وقت کھڑے ہو (۱۳)مسجد میں اگر چھینک آئے تو کوشش کرو کہ آواز آہستہ نکلے۔ اسی طرح کھانسی، ڈکار او ر جماہی کو ضبط کرنا چاہیے اور نہ ہو تو حتی الا مکان آواز دبائی جائے (۱۴)قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا تو ہر جگہ منع ہے مسجد میں کسی طرف نہ پھیلاؤ کہ خلاف آداب دربار ہے۔ (۱۵) مسجد میں دوڑنا یا زور سے قدم رکھنا یا فرش مسجد پر کوئی شے مثلاً لکڑی، چھتری، پنکھا وغیرہ دور سے چھوڑ دینا یا پھینک دینا، اس کی سخت ممانعت ہے۔
سوال نمبر 4: مسجد میں کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :مسجد میں کھانا ، پینا، سونا،ا عتکاف کرنے والے اور پردیسی کے سوا کسی کو جائز نہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص مسجد میں کھانا یا سونا چاہتا ہے تو وہ بہ نیت اعتکاف مسجد میں داخل ہو اور ذکر کرے یا نماز پڑھے اس کے بعد وہ کام کر سکتا ہے نیت اعتکاف یہ ہے: بسم اللہ دخلت وعلیہ توکلت ونویت سنت الاعتکاف اورماہِ رمضان میں روزہ افطار کرنے کے لیے اگر خارج مسجد کوئی جگہ ایسی ہو کہ وہاں افطار کریں جب تو مسجد میں افطار نہ کریں ورنہ داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کر لیا کریں۔ اب افطار کرنے میں حرج نہیں مگر اس بات کا اب بھی لحاظ کرنا ہوگا کہ مسجد کا فرش یا چٹائیاں خراب نہ ہوں۔
سوال نمبر 5: مسجد میں سوال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :آداب مسجد کا لحاظ رکھتے ہوئے بھی اپنے لیے مسجد میں بھیک مانگنا منع بلکہ حرام ہے اور مسجد میں مانگنے والے کو دینا بھی منع ہے۔ بلکہ ائمہ دین نے فرمایا کہ جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے وہ ستر پیسے راہ خدا میں اور دے کہ اس پیسے کے گناہ کا کفارہ ہوں۔ ہاں دوسرے محتاج کے لیے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لیے چند ہ کرنا جس میں نہ غل شور ہو نہ گردن پھلانگنا، نہ کسی کی نمازمیں خلل، یہ بلا شبہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے اور بے سوال کسی محتاج کو دینا بہت خوب اور مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے ثابت ہے۔
سوال نمبر 6: بدبو دار چیز کے ساتھ مسجد میں جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب :بدن یا کپڑے یا منہ میں کوئی بدبو ہو تو جب تک دور اور صاف نہ کر لیں مسجد میں جانا حرام اور نماز میں داخل ہونا منع ہے۔ بدبو دار کثیف حقہ پینے والوں کو اس کا خیال بہت ضروری ہے۔ اور ان سے زیادہ سگریٹ بیٹری والوں کو اور ان سب سے زیادہ اشد ضرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں ان کا جرم دبار ہتا اورمنہ کو بسا دیتا ہے، یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میںبدبو ہو، جیسے مٹی کا تیل ،کچا لہسن، پیاز وغیرہ، غرض مسجد کو ہر گھن اور بدبو کی چیز سے بچانا واجب ہے اور مسجد میںجوتے رکھے تو اس کوپہلے صاف کرے۔
سوال نمبر 7: مسجد کی کوئی چیز مسجد کے علاوہ استعمال میں لانا کیسا ہے؟
جواب :مسجد کی چھوٹی بڑی کوئی چیز بے موقع یا کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کر سکتے، مثلاً لوٹے میںپانی بھر کر لے جانا، اس کی چٹائی یا فرش وغیرہ اپنے گھر یا کسی اور جگہ بچھانا کسی اور مصرف میں لانا، مسجد کے ڈول رسی سے گھر کے لیے پانی بھرنا، مسجد کے سقایہ یا ٹنکی یا گھڑوں مٹکوں میں بھرا ہوا پانی گھر لے جانا، یونہی سقایہ کی آگ گھر لے جانا یا اس سے چلم بھر نا جائز نہیں۔
سوال نمبر 8: محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد جامع میں؟
جواب :مسجد محلہ میں نماز پڑھنا اگر چہ جماعت قلیل ہو مسجد جامع میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اگرچہ وہاں بڑی جماعت ہو بلکہ اگر مسجد میں جماعت نہ ہوئی ہو تو تنہا جائے اور اذان واقامت کہے اور نماز پڑھے تو وہ مسجد جامع کی جماعت سے افضل ہے۔ ہاں اگر مسجد محلہ کے امام میں کوئی ایسی خرابی ہو جس کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے تو یہ مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد کو جائے اور وہ مسجد اختیار کرے جس کا امام شرائط امامت کا جامع اور متدین (دیندار ) متقی ہو۔
سوال نمبر 9: مسجد میں دوبارہ جماعت قائم کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب :شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق در جوق آتے اور نماز پڑھ کر چلے جاتے یعنی اس کے نمازی مقرر نہ ہوں، ایسی مسجد میں اگر چہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعت ثانیہ قائم کی جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان وا قامت سے جماعت قائم کرے ، یہی حکم اسٹیشن اور سرائے کی مسجدوں کا ہے اور مسجد محلہ میں جس کے لیے امام مقرر ہو اور امام محلہ نے اذان و اقامت کے ساتھ بطریق مسنون جماعت پڑھ لی ہو تو نئی اذان و اقامت کے ساتھ پہلی ہیات پر دوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے۔ اور اگرپہلی جماعت بغیر اذان ہوئی یا آہستہ اذان ہوئی یا غیروں نے جماعت قائم کی تو پھر دوبارہ جماعت قائم کی جائے اور یہ جماعت جماعت ثانیہ نہ ہوگی اور ہیات بدلنے کے لیے دوسری جماعت کے امام کا محراب سے دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا کافی ہے۔